افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف اور اس کے نواحی علاقوں میں پیر کی صبح 6.3 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
افغان صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف اور اطراف میں پیر کی صبح شدید زلزلہ محسوس کیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں اب تک 10 افراد کے جاں بحق اور 260 کے قریب زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 28 کلومیٹر تھی۔ مزار شریف کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ 23 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے لیے ’اورنج الرٹ‘ جاری کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جانی نقصان اور تباہی کے امکانات زیادہ ہیں اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کی ویڈیوز اور منہدم عمارتوں کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔ ایک ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے لاشیں نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اِن ویڈیوز اور تصاویر کی تاحال مستند ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
بلخ صوبے میں طالبان حکومت کے ترجمان حاجی زید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ زلزلے کے بعد شولگرا ضلع میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زیادہ تر افراد اونچی عمارتوں سے گرنے کے باعث زخمی ہوئے۔
انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں مزار شریف کی مشہور ’نیلی مسجد‘ کے احاطے میں ملبہ بکھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
صوبہ سمنگان کے محکمہ صحت کے ترجمان سمیم جویندہ نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے میں 180 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ زلزلہ ایسے وقت آیا ہے جب گزشتہ ماہ اگست کے آخر میں مشرقی افغانستان میں آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس تباہ کن زلزلے میں سینکڑوں گھر منہدم ہو گئے اور لوگ ملبے تلے دب گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان اس خطے میں واقع ہے جہاں زلزلوں کے خطرات رہتے ہیں کیونکہ یہ ملک بھارتی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر بسا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں معمولی جھٹکے بھی شدید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔