
نیویارک کی ایک عدالت نےافغان شہری 59 سالہ عبدالستار بارکزی کو ہیروئن کی اسمگلنگ کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنا دی۔
تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے کہا کہ عبدالستار بارکزی نے ہیروئن کی اسمگلنگ کو ”جنگ“ کے طور پر استعمال کیا اور شہریوں کے اغوا کی منصوبہ بندی کی تھی۔
حکام کے مطابق بارکزی کا تعلق منشیات کی اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی گروہ سے تھا اور اس نے اس نیٹ ورک کے ذریعے ہیروئن امریکا میں اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔
یو ایس ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ بارکزی کی شناخت ایک خفیہ ایجنٹ کے ذریعے ہوئی جو منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے لئے کام کرتا تھا۔
۔
ڈی ای اے کے حکام نے یہ بھی بتایا کہ جیل سے ایک کال میں بارکزی نے اپنے خاندان کے افراد کو اپنے کیس میں گواہوں کو اغوا کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ گواہی دینے سے باز رہیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے مزید کہا کہ بارکزی نے “طالبان کے معاشی فائدے کے لئے منشیات کی اسمگلنگ کیا کرتا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارکزی نے ”افغانستان میں ان کی سرگرمیوں اور اتحادی افواج کے خلاف ان کی جنگ میں مدد کے لیے طالبان کو ہزاروں ڈالر فراہم کیے تھے۔“
امریکی محکمہ انصاف نے حقانی نیٹ ورک کو ”طالبان کے اندر سب سے زیادہ پرتشدد گروہوں میں سے ایک“ کے طور پر بیان کیا اور بارکزی پر نیٹ ورک کی مالی معاونت کا الزام لگایا۔
حکام کا کہنا تھا کہ بارکزی کی سزا منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے درمیان گٹھ جوڑ کی وجہ سے لاحق خطرے کو نمایاں کرتی ہے، خاص طور پران علاقوں میں جہاں عسکریت پسند گروپ غیرقانونی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ مقدمہ عالمی سطح پر منظم جرائم اور دہشت گردی دونوں سے نمٹنے کے لیے درکار بین الاقوامی کوششوں کی بڑی مثال ہے۔