جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا غزہ میں ڈرون حملہ: کئی ہلاکتوں کی اطلاعات

غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے 24 گھنٹے بھی مکمل نہ ہوئے کہ اسرائیلی افواج نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیں، جن میں مزید چھ فلسطینی شہید ہو گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ ایک روز کے دوران 44 لاشیں اسپتالوں میں لائی گئیں جبکہ 29 زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ 38 لاشیں ملبے کے نیچے سے برآمد ہوئیں، جب کہ کئی افراد اب بھی ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔

وزارت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار 913 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 134 ہو گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں مختلف علاقوں میں رات گئے تک جاری رہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ خان یونس میں اسرائیل ڈرون کے حملے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ کل رفح بارڈر کراسنگ بھی نہیں کھولے گا۔

ادھر، اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) نے کہا ہے کہ اسرائیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے اور فوری طور پر اس پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے کے مطابق، “خوراک، ادویات، حفظانِ صحت کی اشیا اور پناہ گاہوں کا سامان غزہ کے باہر گوداموں میں موجود ہے، جنہیں اسرائیل کی جانب سے داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ہمارے پاس مصر اور اردن میں تین ماہ تک پوری آبادی کے لیے کافی خوراک موجود ہے۔”

ادارے نے کہا کہ “مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں، ہمیں فوری طور پر اجازت درکار ہے تاکہ UNRWA کی امدادی اشیا غزہ بھیجی جا سکیں اور ضرورت مندوں تک پہنچائی جا سکیں۔” بیان میں زور دیا کہ “غزہ کے لیے امداد پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔”

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles