قطر کا امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کی تجدید کا فیصلہ

قطر اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک جامع معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ دونوں ممالک طویل عرصے سے اس معاہدے پر کام کر رہے تھے، لیکن حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد اس عمل میں تیزی آ گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق روبیو نے تل ابیب سے دوحہ روانہ ہوتے ہوئے کہا، ”ہم قطر کے ساتھ قریبی شراکت داری رکھتے ہیں۔ دفاعی تعاون کا معاہدہ تقریباً مکمل ہے۔“

یاد رہے کہ قطر اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون کا آغاز 1992 میں ہوا، جب دونوں ممالک نے ایک باضابطہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی بنیاد پر امریکا کو قطر میں فوجی اڈے، خاص طور پر العدید ایئربیس پر موجودگی کی اجازت ملی۔

AAJ News Whatsapp

2002 میں اس معاہدے کو مزید وسعت دی گئی، اور یہ بیس اب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔ وقت کے ساتھ اس دفاعی تعاون میں توسیع ہوتی رہی ہے اوریہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آیا۔

قطر جو امریکا کا قریبی اتحادی اور مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ رکھنے والا ملک ہے، اس حملے کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دے چکا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بریفنگ میں کہا، ”یہ (اسرائیلی) حملہ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ بات نئی نہیں، مگر اب یہ عمل تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔“

روبیو نے دوحہ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سمیت اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔

قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت اس کی اولین ترجیح اپنی خودمختاری کا تحفظ ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، دیگر معاملات پر توجہ دینا ممکن نہیں۔

قطر کئی برسوں سے مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم، حالیہ حملے کے بعد اس کردار پر دباؤ بڑھا ہے۔

مارکو روبیو نے کہا، ”اگر دنیا میں کوئی ملک ہے جو اس تنازع میں ثالثی کا مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ قطر ہی ہے۔ لیکن وقت بہت کم رہ گیا ہے۔“

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر اس پر کوئی حملہ ہوا تو امریکا اس کا دفاع کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ انہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حملے سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ٹرمپ نے اس حملے کو ”یکطرفہ اور غیر ضروری“ اقدام قرار دیا تھا جو نہ امریکا اور نہ ہی اسرائیل کے مفاد میں تھا۔

قطری حکومت نے اسرائیلی حملے کو ”بزدلانہ اور غداری پر مبنی“ قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ یہ اس کے ثالثی کے کردار کو متاثر نہیں کرے گا۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز مارکو روبیو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں خبردار کیا کہ ”ہم حماس کے رہنماؤں کو جہاں کہیں بھی ہوں، نشانہ بنائیں گے۔“

دوسری طرف، اسرائیلی حملے کے بعد عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان کی ایک سربراہی کانفرنس میں قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles