
معروف امریکی خلا باز جِم لوول، جنہوں نے 1970 کے تاریخی اپالو 13 مشن کی قیادت کی اور ایک ممکنہ سانحے کو ناسا کی سب سے بڑی کامیابیوں میں بدل دیا، جمعہ 9 اگست 2025 کو 97 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ناسا نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا, ”جم کے حوصلے، قیادت اور ثابت قدمی نے نہ صرف قوم کو چاند کی جانب بڑھنے میں مدد دی، بلکہ ایک انتہائی نازک موقع پر، جب مشن ناکامی کے دہانے پر تھا، اسے ایک کامیاب بقا کی کہانی میں تبدیل کر دیا۔ ہم ان کی موت پر سوگوار ہیں، لیکن ان کی غیر معمولی خدمات کا جشن بھی مناتے ہیں۔“
آسٹریلوی نوجوان کا دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا ملک بنانے کا دعویٰ
جیمز اے لیویل کا شمار ناسا کے ابتدائی دور کے ان خلا بازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ خلائی مشنز مکمل کیے۔ انہوں نے چار خلائی پروازوں جیمنی 7،جیمنی 12، اپالو 8، اپالو 13میں حصہ لیا۔
اپالو 8 وہ پہلا مشن تھا جس میں انسانوں نے چاند کے گرد چکر لگایا۔ لیکن ان کی اصل شہرت اپالو 13 کے ذریعے ہوئی، جب خلا میں ایک آکسیجن ٹینک کے پھٹنے کے باعث مشن شدید خطرے میں پڑ گیا تھا۔ خلا میں پھنسے عملے کو واپس زمین پر لانا ایک معجزے سے کم نہ تھا۔
نوجوان امریکی اداکارہ چل بسیں
لیویل نے 2010 میں ایک انٹرویو میں اسے ”کامیاب ناکامی“ قرار دیتے ہوئے کہا تھا، ”مشن اپنے مقصد میں ناکام ہوا، مگر عملے کی بحفاظت واپسی ایک بڑی کامیابی تھی۔“
خلا باز جیک سوئگرٹ کی وہ مشہور ریڈیو کال،”ہیوسٹن، ہمیں یہاں ایک مسئلہ درپیش ہے“ ناسا کی تاریخ کا حصہ بن گئی، جسے بعد میں 1995 کی فلم ”اپالو 13“ میں امر کر دیا گیا۔
فلم میں لیویل کا کردار مشہور اداکار ٹام ہینکس نے نبھایا، جب کہ لیویل نے خود بھی ایک مختصر منظر میں نیوی کے کمانڈر کا کردار ادا کیا۔
جِم لوول 1928 میں کلیولینڈ، اوہائیو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1952 میں یو ایس نیول اکیڈمی سے گریجویشن کیا اور بعد میں نیوی کے ٹیسٹ پائلٹ بنے۔ 1962 میں انہیں ناسا کے خلا بازوں کی ٹیم میں شامل کیا گیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے خلائی تاریخ سے جڑے رہتے ہوئے اپنی کتاب “لاسٹ مون: دی پیریلس ووئےج آف اپالو 13 “لکھی، جس پر فلم بھی بنی۔ وہ کچھ عرصے تک شکاگو کے نواحی علاقے میں واقع اپنے ریسٹورنٹ “لوولز آف لیک فاریسٹ “کے مالک بھی رہے، جو اب بند ہو چکا ہے۔
ان کی اہلیہ مارلن کی وفات 2023 میں ہوئی۔ ان کے پسماندگان میں چار بچے شامل ہیں۔
جم لوول کے اہل خانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا، ”جم ہمارے ہیرو تھے۔ ہم ان کے امید سے بھرپور رویے، مزاحیہ انداز اور اس جذبے کو کبھی نہیں بھولیں گے جس سے وہ ہم سب کو یقین دلاتے تھے کہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔ وہ واقعی ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔“
جم لوول کی زندگی ناسا، خلا، اور انسانی حوصلے کی ایک روشن مثال ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔