
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں فی الوقت سب سے بڑی ترجیح لوگوں کو کھانا کھلانا ہے کیونکہ ”وہاں بہت سے لوگ بھوکے ہیں“۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے معاملے پر اس وقت کوئی موقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔
ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے ٹرن بیری گالف ریزورٹ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے غزہ کے لیے انسانی امداد میں 60 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں اور دیگر ممالک کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں کچھ بچے واقعی میں بھوک سے مررہے ہیں، ہم اس صورتحال کو دھوکا قرار نہیں دے سکتے۔
ٹرمپ نے مزید کہ کہ نے کہا کہ حماس سے مذاکرات میں مشکل ہورہی ہے،ایران نے پھر کوشش کی تو ایٹمی تنصیبات کا نام و نشان مٹادیں گے۔ ہم یہ کام بڑی خوشی اور سب کے سامنے کریں گے۔ یہ کام اتنی تیزی سے ہوگا جیسے انگلی کا اشارہ ہو،ایک ایسا ملک جو مٹنے کے قریب تھا برے سگنلزدے رہا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران حماس کو بھی سنگلز دے رہا ہے، یہ اچھا نہیں ہے، ایران کے وزیرخارجہ نے جو کچھ کہا وہ نہیں کہنا چاہئے تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ مسئلہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن کے ساتھ بھی زیر بحث لایا، جنہوں نے کہا کہ یورپی ممالک امداد میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اسٹارمر کے ساتھ بھی انسانی صورتحال پر بات کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا، ”ہم بہت سا پیسہ اور خوراک دے رہے ہیں اور دیگر ممالک بھی اب آگے بڑھ رہے ہیں۔ صورتحال بہت خراب ہے، فوری طور پر خوراک اور حفاظت کی فراہمی ضروری ہے۔“
اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیر اسٹارمر نے کہا، ”یہ ایک انسانی بحران ہے، ایک بالکل تباہ کن صورت حال۔ مجھے لگتا ہے برطانیہ کے لوگ اس تصویر کو دیکھ کر بہت صدمے میں ہیں۔“
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ سمیت اب تک 6 بڑی جنگوں کو رکوایا ہے۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف پاک بھارت نہیں بلکہ کانگو روانڈا سمیت اب تک 6 بڑی جنگوں کو رکوایا ہے۔ میں ہر جگہ امن کے لیے کوششیں کر رہا ہوں۔
امریکی صدر نے کہا کہ روس یوکرین جنگ سے ہمیں نہیں بلکہ انہیں خود نقصان ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان خونی جنگ لڑی جا رہی ہے اور اس جنگ میں ہر ہفتے 7 ہزار فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔ میں یہ جنگ رکوانے کے لیے بھی کوشاں ہوں اور کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے 10 سے 12 روز میں ڈیل ہو جائے۔ اگر جنگ نہ رکی تو پابندیاں اور ٹیرف کا استعمال کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال پہلے امریکی ملک مردہ ہو گیا تھا۔ ہم نے اسے پھر سے اٹھایا ہے۔ خوفناک لوگ امریکا میں بھاگے چلے آ رہے تھے، جنہیں امریکا میں داخل ہونے سے روکا ہے۔