
خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی گیارہ خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات آج ہوں گے، جس کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے، مذکورہ ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ اسٹیشنز میں موبائل فون یا کسی بھی قسم کی الیکٹرانک ڈیوائس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ بیلٹ پیپر کی تصویر لینا بھی سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ پولنگ خیبرپختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں ہوگی جہاں کل 145 اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
سینیٹ کی جن نشستوں پر انتخاب ہونا ہے ان میں سات جنرل، دو ٹیکنوکریٹ اور دو خواتین کی مخصوص نشستیں شامل ہیں۔
انتخاب سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد شریک ہوئے۔ اجلاس میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر منتخب 25 اراکین نے حلف اٹھا لیا
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کسی صورت درست نہیں، ہم نے اپوزیشن کے ساتھ وعدے کے مطابق چھ نشستیں حکومت اور پانچ اپوزیشن کو دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ادھر تحریک انصاف کے پانچ ناراض امیدواروں میں سے چار نے سینیٹ انتخاب سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔ دستبردار ہونے والوں میں وقاص اورکزئی، ارشاد حسین، عرفان سلیم اور عائشہ بانو شامل ہیں۔ ارشاد حسین نے الیکشن کمیشن کو باضابطہ خط لکھ کر کاغذات نامزدگی واپس لینے کی درخواست کی اور کہا کہ یہ فیصلہ بانی و پارٹی قیادت کے فیصلے کے مطابق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق خرم ذیشان واحد ناراض امیدوار ہیں جنہوں نے ابھی تک دستبرداری کا اعلان نہیں کیا۔
وقاص اورکزئی نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد اپنی دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کاغذات واپس لینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے نظریے سے ہٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے انہیں یقین دلایا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کے نام بانی پی ٹی آئی نے ہی فائنل کیے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی سے کوئی خطرہ نہیں، پی ٹی آئی کا کوئی ایم پی اے نہیں ٹوٹے گا، عمر ایوب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ناراض رہنماؤں کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’الحمدللہ وقاص اورکزئی نے بانی کے فیصلے کا احترام کیا، اور مجھے فخر ہے کہ انہوں نے ذاتی مفاد پر پارٹی کے نظریے کو ترجیح دی۔ یہی جذبہ کرپشن سے پاک نئے پاکستان کی بنیاد بنے گا۔‘