
قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالیاتی بل 26-2025 پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے آ گئیں۔ اپوزیشن ارکان نے بل میں متعدد ترامیم پیش کیں، جنہیں کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا، جس پر ایوان میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
قومی اسمبلی میں فنانس بل پر شق وار منظوری کا سلسلہ جاری ہے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ترامیم پیش کی گئیں جنہیں کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔ تحریک انصاف کے گوہر علی خان اور جے یو آئی کی عالیہ کامران نے ترامیم پیش کیں۔
گوہر علی خان نے اعتراض اٹھایا کہ اسلام آباد کے عوام کے ساتھ اقربا پروری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سی ڈی اے کی پراپرٹی ٹرانسفر پر کوئی ٹیکس نہیں، جبکہ رجسٹری پر ٹیکس عائد ہے، جو غیرمنصفانہ ہے اور ختم ہونا چاہیے۔‘
تاہم ایوان نے ان اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے فنانس بل کی شق 2 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ اس کے ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات پر 2.5 فیصد کاربن لیوی عائد کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں موجود رہے۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسلسل کثرت رائے سے مسترد کی جاتی رہیں۔
سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری سے متعلق ترامیم منظور
فنانس بل کی شق وار منظوری کے دوران سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق سخت ترامیم منظور کرلی گئی ہیں۔ نئے قانون کے تحت سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف گرفتاری، انکوائری اور عدالتی کارروائی کے لیے واضح اور سخت اصول طے کر دیے گئے ہیں۔
فنانس بل کے مطابق، اگر کسی کمپنی یا فرد نے بغیر مال کی فراہمی کے ٹیکس انوائس جاری کی، یا انوائس میں دانستہ جعل سازی یا ٹمپرنگ کی گئی، تو یہ عمل ٹیکس فراڈ تصور کیا جائے گا اور گرفتاری عمل میں لائی جا سکے گی۔ اسی طرح، ٹیکس گوشواروں میں جان بوجھ کر غلط معلومات دینا، شواہد مٹانا یا فراڈ کے لیے دستاویزات میں رد و بدل کرنا بھی قابلِ گرفت جرم ہوگا۔
ترمیم شدہ شقوں کے مطابق، ٹیکس فراڈ میں ملوث کمپنی یا شخص کو تین بار نوٹس دیا جائے گا۔ اگر وہ انکوائری میں شامل ہو جائے تو گرفتاری سے استثنیٰ حاصل ہوگا، لیکن اگر وہ بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش کرے یا شواہد ضائع کرے، تو فوراً گرفتار کیا جا سکے گا۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اگر سیلز ٹیکس فراڈ کی مالیت پانچ کروڑ روپے یا اس سے زائد ہو، تو ملزم کی گرفتاری کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر آپریشنز اور ممبر لیگل پر مشتمل خصوصی کمیٹی کی منظوری درکار ہوگی۔ مزید یہ کہ ایسے ملزمان کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہوگا۔
نئی ترامیم کے بعد ٹیکس حکام کو مالی دھوکہ دہی کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے، جبکہ کاروباری حلقوں میں اس قانون پر ردعمل کا سلسلہ بھی متوقع ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان ترامیم کا مقصد ٹیکس نظام میں شفافیت، دھوکہ دہی کی روک تھام اور قومی محصولات میں بہتری لانا ہے۔
’گھاٹے کا بجٹ ، عوام دشمن بجٹ‘
اپوزیشن رکن مبین عارف نے کہا کہ فنانس بل پر عوام کی رائے لی جائے، ہر چیز پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ رکن اسمبلی عالیہ کامران نے بھی کہا کہ اسٹیک ہولڈر عوام ہے ان سے مشاورت ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالیاتی بل کی تحریک پیش کی، جس کے بعد اپوزیشن ارکان عامر ڈوگر، جنید اکبر، گوہر علی خان، سردار لطیف کھوسہ، عاطف خان سمیت دیگر نے شدید اعتراضات اٹھائے۔عامر ڈوگر نے کہا ہم اس تحریک کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
اجلاس کے دوران سردار لطیف کھوسہ نے ایوان میں سوالات کی بوچھاڑ کر دی، انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن پر کتنی توجہ ہے؟انرجی پالیسی کہاں ہے؟ایوان صدر کا بجٹ کیوں بڑھا؟کیا عوام کے لیے کچھ سوچا بھی گیا ہے؟
پیپلز پارٹی پارلیمانی پارٹی اجلاس: بلاول کی اراکین کو مالیاتی بل کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت
رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے فاٹا اور پاٹا کے علاقوں پر ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ پہلے سے محرومی کا شکار ہے، پہلے بنیادی سہولیات دیں، پھر ٹیکس لگائیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم اسمبلی کے اندر اور باہر اس اقدام کی مخالفت کریں گے۔
جنید اکبر نے توانائی کے شعبے پر بجٹ میں کوئی مؤثر حکمت عملی نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 40 ہزار کی تنخواہ والے غریب کا 20 ہزار کا بل آ جاتا ہے۔ انہوں نےایف بی آر کے اختیارات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو پیسہ بٹورنے کا اختیار نہ دیں، یہ عوام کو ہراساں کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔
اجلاس کے دوران گوہرعلی خان نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو ایک ہزار گاڑیاں دی جا رہی ہیں،زراعت کو بجٹ میں مکمل نظرانداز کیا گیا، انہوں نے کہا کہ نجکاری کا اعلان کیا گیا مگر کسی ادارے کی نجکاری نہیں ہوئی،اصلاحات کا بھی کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں۔
گوہر علی خان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال کی گرانٹس کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔