
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جارحیت کا جواب ضرور ملے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر اور فرانسیسی صدر میکرون میں رابطہ ہوا جس میں ایران کے صدر نے کہا کہ ہم نے نہ تو جنگ شروع کی نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ جنگ جاری رہے۔
ایرانی صدر نے فرانسیسی اور مصر کے صدر سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب امریکا ہمارے جواب کا انتظار کرے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ صورتحال کو انتہائی سنگین کردے گا۔
ایران پر حملے سے قبل امریکا اور اسرائیلی حکام کے درمیان ٹیلی فون کال پر گرما گرمی
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اب ہر قسم کے اقدام سے محتاط رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو ہم سے اپنے دفاع میں جو کچھ ہوگا وہ کریں گے۔
دوسری جانب مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران جوابی کارروائی سے باز رہے، حملہ کیا تو اب تک کی بدترین غلطی ہوگی۔ ایران میں حکومت کی تبدیلی امریکا کا مقصد نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ہم امن اور سفارتی طریقے سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، ہم تو کئی دنوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، یہ تو ایرانی تھے جو ہم سے کھیل رہے تھے، انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ بھی کھلینے کی کوشش کی، انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔