ایران کا اسرائیل میں موساد اور فوجی انٹیلی جنس سینٹر پر حملہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے حساس فوجی اور انٹیلی جنس مراکز پر براہِ راست حملے کیے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موجود ملٹری انٹیلی جنس سینٹر اور موساد کے آپریشنز پلاننگ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی نوعیت اور نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی بیان کو خطے میں ایک نئے مرحلے کی جانب پیش قدمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی رپورٹس میں مرکزی ساحلی شہر ہرتزلیہ میں میزائل حملے کو ایک حساس مقام کو نشانہ بنانا قرار دیا گیا — جو عموماً کسی فوجی یا اسٹریٹیجک ہدف کے لیے استعمال ہونے والا کوڈ ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تین یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ گفتگو کے دوران عراقچی نے اسرائیل کی کھلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایران کی خودمختاری پر حملہ اور سفارت کاری کے چہرے پر ایک ”بے مثال ضرب“ ہیں۔ انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی اس کھلی جارحیت کی کھل کر مذمت کریں اور مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ نرمی کے رویے کو ختم کیا جائے۔

ایران کی وزارت صحت کی جانب سے جاری حکم کے مطابق ملک بھر کے تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی تمام چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ نائب وزیر صحت نے اعلان کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام طبی عملے کو فوری طور پر اپنی ذمہ داریوں پر واپس بلایا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles