
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے دو اعلیٰ امریکی اہلکاروں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خامنہ ای پر حملے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، مگر صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا ایرانی حملے میں کوئی امریکی ہلاک ہوا ہے، تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ”نہیں“۔
ایران کا اسرائیل پر صبح سویرے بڑا حملہ، مزید 100 سے زائد میزائل داغ دئے، اب تک 14 اسرائیلی ہلاک اور 380 زخمی
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ کے ویٹو کی خبر کو ”غلط“ قرار دیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید کچھ نہیں کہیں گے، تاہم اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا ”نمبر ون دشمن“ تصور کرتا ہے اور انہیں قتل کرنا چاہتا ہے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’یہ صدر ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا، اور ایران اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے انٹیلی جنس چیف اور ڈپٹی چیف کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ایران کے ہائپرسانک ہتھیاروں کے سامنے اسرائیلی کمزوریاں بے نقاب
نیتن یاہو نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ’ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دیے جائیں گے، اسرائیل اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔‘