اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے سرخ لکیر عبور کی، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے سرخ لکیر عبور کی، جس کے بعد ایران کو دفاع میں جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے امریکی مدد کے بغیر ممکن نہ تھے، اور ان کا مقصد امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنا تھا۔ عراقچی نے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکا بھی اس سازش میں شامل ہو گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے سرخ لکیر عبور کر لی ہے، جس کے بعد ایران کو مجبوراً اسرائیلی معاشی مفادات کو نشانہ بنانا پڑا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے صرف اپنے دفاع میں جوابی کارروائیاں کیں اور یہ واضح کیا کہ اسرائیلی حملے امریکی مدد کے بغیر ممکن ہی نہ تھے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ دنیا اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے اور خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرے۔

آپریشن وعدہ صادق سوم: اسرائیل دھماکوں سے لرز اٹھا، ایک ہی رات میں ایرانی حملوں میں 11 اسرائیلی ہلاک

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اس تنازع کو دیگر ممالک تک پھیلانے کا خواہاں نہیں ہے، اور ایران کی پالیسی دفاعی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں معاہدے کا راستہ کھلنے کے امکانات موجود تھے، لیکن اسرائیل نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ حملے کروائے۔

اسرائیل کا ایران کی آئل ریفائنری، دفاعی تنصیبات اور ریسرچ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

عباس عراقچی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے بھی مذاکرات کو ناکام بنانے کے اسرائیلی منصوبے میں عملی طور پر شمولیت اختیار کی، جو کہ افسوسناک اور خطرناک رجحان ہے۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ایران خطے میں مزید کشیدگی نہیں چاہتا لیکن اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles