شام کی موجودہ صورتحال خطرناک ہے، دوحہ فورم

ترکیہ، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کی دوحہ میں ملاقات ہوئی جس دوران شام میں باغیوں کی پیش قدمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوحہ فورم کے مشترکہ اعلامیہ میں کہنا ہے کہ شام کی موجودہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

خبرایجنسی کے مطابق تینوں رہنماوں نے 13 سال پرانے شامی تنازعے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ تینوں رہنماوں نے شام میں لڑائی کے فوری خاتمے پر اتفاق کیا۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا روس کسی دہشت گرد گروہ کو شام کا کنٹرول نہیں سنبھالنے دے گا، روس باغی گروہ کی پیش قدمی کو روکنے کی ہرممکن اقدام کے ذریعے مخالفت کرے گا۔

ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے لاوروف کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل شام میں صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ترکیہ کا باغیوں کی کارروائی میں کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی مدد فراہم کی۔ بشارالاسد کو سیاسی حل کے لیے شامی عوام کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ انقرہ شام سے عوام کا انخلا نہیں دیکھنا چاہتا۔

دوسری جانب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کرد فورسز کی حمایت ختم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو شام جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، میں اقتدار سنھبالنے کے بعد امریکا کی شام جنگ میں شمولیت کو ختم کر دوں گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو شام کے تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ شام ہمارا دوست نہیں، انہیں لڑنے دو، اس گندے کھیل میں ملوث نہ ہوں۔

بعد ازاں صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلا دورہ فرانس کا کیا۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور فرانسیسی صدر میکرون سے ملاقات کی۔ یوکرین جنگ سمیت عالمی تنازعات پر بات چیت کی گئی تاہم بات چیت کے لیے کسی ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles