
افریقا کے ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک پراسرار بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اس بیماری تشخیص اب تک نہیں ہو پائی ہے۔
10 سے 25 نومبر تک اس بیماری کے ہاتھوں صرف ایک صوبے میں ڈیڑھ سے زائد ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق طبی ماہرین کہتے ہیں کہ پراسرار بیماری کی علامات میں بخار، سردرد اور کھانسی کے علاوہ خون میں سرخ خلیوں کی کمی نمایاں ہیں۔
کانگو میں بغاوت کا مقدمہ، تین امریکیوں سمیت 37 افراد کو سزائے موت
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی جتنی بھی علامات ہیں وہ موت سے کچھ دن قبل مریض میں تیزی سے ظاہر ہوتی ہیں۔
مشکل یہ ہے کہ علامات کی بنیاد پر روک تھام یا علاج کے بارے میں کچھ کرنے سے پہلے وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
اس صورتِ حال کا عالمی ادارہ صحت نے بھی نوٹس لیا ہے۔ چند مریضوں سے لیے گئے نمونے تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اس حوالے سے باضابطہ طور پر کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
کانگو میں جیل توڑنے کی کوشش میں 129 قیدی ہلاک، درجنوں خواتین کیساتھ زیادتی
کانگو کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دواؤں اور دیگر ساز و سامان کی شدید قلت ہے۔ دیہی علاقوں میں معقول اور بروقت علاج ممکن نہیں ہو پارہا کیونکہ میڈیکل سپلائیز بروقت نہیں مل پاتیں۔