
امریکی ارکانِ کانگریس پر مشتمل تین رکنی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وفد میں کانگریس مین جیک برگمین، تھامس رچرڈ سوازی اور جوناتھن جیکسن شامل ہیں۔ امریکی وفد 15 اپریل تک پاکستان کے دورے پر رہے گا۔
دورے کے دوران امریکی وفد کی وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں طے ہیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، معیشت، تجارت، دفاع، تعلیم اور سیکیورٹی سمیت اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق امریکی وفد مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت سے بھی ملاقات کرے گا، جبکہ آزاد کشمیر اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ بھی شیڈول کا حصہ ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بات چیت جاری ہے۔ وفد کے دورے کو سفارتی اور دفاعی حلقوں میں اہمیت دی جا رہی ہے۔
کانگریس ارکان کی پاکستانی سیاسی رہنماؤں سےملاقات
امریکی کانگریس ارکان نے پاکستانی سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی، یہ ملاقات امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر استقبالیہ میں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق فواد چوہدری اور فیصل چوہدری بھی ملاقات میں شریک تھے، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان، ڈاکٹر امجد خان اور پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران نے بھی امریکی کانگریس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان نژاد امریکی بزنس مین بھی ملاقات میں شامل رہے، پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے ارکان نے کہا کہ پاک امریکی تعلقات کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کرینگے۔
کانگریس وفد کی احسن اقبال سے ملاقات
امریکی ارکان کانگریس جیک برگ مین، تھامس رچرڈ سوازی اور جوناتھن جیکسن نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے ملاقات کی۔
اعلامیے کے مطابق امریکی وفد نے اسٹریٹجک تعلقات مضبوط بنانے اور کلیدی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وفد نے سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ کے لیے نجی شعبے کو شامل کرنے کی اہمیت پر زوردیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ مضبوط پاک امریکا شراکت داری علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
امریکی وفد تین روزہ دورے کے دوران وزیراعظم، وزیر خارجہ، اعلیٰ عسکری قیادت اور سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔