
عید الفطر کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم کی تجویز پر مختلف جیلوں سے 183 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 1606 قیدیوں کی سزا میں کمی کردی گئی ہے۔
صدر مملکت نے یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت کیا، جس کے مطابق یہ رعایت 65 سال سے زائد عمر کے مرد اور 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدیوں کو دی جائے گی، بشرطیکہ وہ اپنی ایک تہائی سزا مکمل کر چکے ہوں۔
اس کے علاوہ وہ خواتین جو اپنے بچوں کے ساتھ قید ہوں، 18 سال سے کم عمر کے قیدی ہوں اور اپنی سزا کا ایک تہائی حصہ مکمل کر لیا وہ اس رعایت کے حقدار ہوں گے۔
دوسری جانب پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے عید کے تینوں دن خصوصی کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جبکہ جمعہ سے عید کے دوسرے دن تک قیدیوں کو عام ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق عید کے روز ناشتے میں پراٹھا چائے اور سویاں ملیں گی، دوپہر کے کھانے میں چکن روٹی اور سویٹ دیا جائے گا جبکہ رات کے کھانے میں چکن روٹی اور پلاؤ ہوگا۔
حکام کے مطابق تمام جیلوں میں روزانہ 30 سے چالیس ہزار ملاقاتیں روزانہ متوقع ہیں، ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ملاقاتیوں کو اپنے پیاروں ملوا کر واپس بھجوایا جائے۔ عید کےپہلے اور دوسرے دن ملازمین کی خصوصی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں۔
ادھر کراچی سے عید اسپیشل ٹرین رات آٹھ بجے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگی۔