
پاکستان نے جعفر ایکسپریس پر حملے کا ذمہ دار بھارت کو قرار دے دیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بلوچستان کے ضلع بولان میں جعفر ایکسپریس پر حملہ بیرون ملک سے منصوبہ بنایا گیا تھا، جس میں دہشت گردوں کے افغانستان سے روابط کے شواہد بھی ملے ہیں۔
ترجمان شفقت علی خان نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور تخریب کار عناصر ہمیشہ ہماری سرحدوں کے باہر سے آتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس پر حملے کی ٹریس شدہ کالز میں دہشت گردوں کے افغانستان سے رابطے سامنے آئے ہیں، جس پر افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
جعفر ایکسپریس حملہ: لوگوں کے یرغمال بننے سے فرار ہونے تک کیا کچھ ہوا؟
ترجمان نے کہا کہ پاکستان سفارتی سطح پر دہشت گردی کے ایسے واقعات پر ہمیشہ تفصیلات متعلقہ ممالک سے شیئر کرتا رہا ہے، اور یہ سلسلہ مستقل جاری ہے۔ ہمارے کئی دوست ممالک نے جعفر ایکسپریس پر ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی ہے، اور پاکستان انسداد دہشت گردی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
بریفنگ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورہ جدہ سے متعلق بھی بتایا گیا، جہاں انہوں نے فلسطین پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور پاکستان کے مؤقف سے عالمی برادری کو آگاہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے امدادی تنظیموں پر عائد کی گئی پابندیوں کی مذمت کرتا ہے اور اسے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف قرار دیتا ہے۔
بھارت کی 2009 میں بین الاقوامی رسوائی: جب 300 نکسلائیٹس نے راجدھانی ایکسپریس ہائی جیک کی
ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت فوری طور پر کشمیری عوام پر جاری ظلم و جبر بند کرے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانیوں کے داخلے پر کسی قسم کی پابندی سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی، اور یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں جن پر ردعمل دینا مناسب نہیں۔
جعفر ایکسپریس کے یرغمالی بازیاب، 21 مسافر اور 4 جوان شہید، تمام 33 دہشتگرد ہلاک، رولز آف گیم تبدیل ہوگئے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف آج کوئٹہ میں ملاقاتیں کریں گے اور وہاں سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے پاکستان مخالف قوتیں ہیں، جو خاص طور پر چین کی سرمایہ کاری اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہیں، لیکن پاکستان اپنے ترقیاتی منصوبوں کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دے گا۔