میو اسپتال میں انجیکشن کے ری ایکشن سے 18 مریض متاثر، 2 کی حالت تشویشناک


صوبائی دارالحکومت کے میو اسپتال میں پھیپھڑوں کے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے انجیکشن سے 18 مریضوں کو شدید ری ایکشن ہوا ہے جبکہ متاثرہ مریضوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہورکے میو اسپتال کے ری ایکشن سے 18 مریض متاثرہوئے ہیں جبکہ 2 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہیں۔
واقعہ میو اسپتال کے سینہ چھاتی وارڈ میں پیش آیا، انجیکشن کے ری ایکشن سے 2 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
میو اسپتال میں ادویات کی قلت پر مزید معطلی، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فنڈز جاری
سی ای او میو اسپتال پروفیسر ہارون حامد نے بتایا کہ انتظامیہ نے انجیکشن کا استعمال فوری روک دیا ہے، واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی، جبکہ متاثرہ مریضوں کا بہترین علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دو دن قبل میو اسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا جہاں مریضوں اور تیمارداروں نے شکایات کے انبار لگا دیے تھے، ناقص سہولیات اور بدانتظامی پر وزیراعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کی سخت سرزنش کی تھی۔
دورے کے دوران مریم نواز نے ایم ایس میو اسپتال کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپتال میں عوام کو درپیش مسائل کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مریم نواز کا اچانک میو اسپتال کا دورہ، شکایت کے انبار پر فوری بڑے فیصلے
بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے دورہ میو اسپتال کے دوران برطرف سی ای او اور ایم ایس کی جگہ نئے افسران کی تعیناتی کردی گئی۔
اسپتال کے سی ای او پروفیسر احسن نعمان کی جگہ پروفیسر ہارون حامد کو اسپتال کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کردیا گیا، پروفیسر ہارون حامد کو3 ماہ کے کیلئے عارضی طور پر تعنیات کیا گیا۔
دوسری جانب گریڈ 20 کے پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر احتشام الحق کا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے تبادلہ کرکے ڈاکٹر فیصل مسعود کی جگہ ایم ایس میو اسپتال تعینات کر دیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles