
پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات میں بجلی کے صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی سے متعلق بجلی بلوں پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ توانائی شعبے میں گردشی قرض میں کمی کا معاملہ بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے موسم سرما کے ریلیف پیکیج کو پورے مالی سال تک توسیع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ بجلی کے صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی کے لیے بجلی بلوں پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیورجز اور تمباکو سیکٹر کو ریلیف دینے کی تجویز ہے، اگلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکسز کا بوجھ کم کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے، آئی ایم ایف کی منظوری سے ان شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا۔
نیٹ میٹرنگ صارفین سے خریدی گئی بجلی کے ٹیرف میں 17 روپے تک کمی کا امکان
محصولات کی کمی پر کوئی عذر قبول نہیں، اخراجات میں کمی کیلئے رائٹ سائزنگ کی جائے، آئی ایم ایف حکام نے واضح کردیا
ذرائع کے مطابق اگلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے، ری ٹیل سمیت مختلف شعبوں سے 250 ارب روپے ٹیکس وصولی کا پلان ہے، تاجر دوست اسکیم اور کمپلائنس رسک مینجمنٹ سمیت انتظامی اقدامات سے ٹیکس جمع ہوگا، تمام اقدامات کی حتمی منظوری آئی ایم ایف سے لی جائے گی۔
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے کمرشل بینکوں سے 1250 ارب روپے قرض لیا جائے گا اور یہ قرضہ 10.8 فیصد شرح سود پر لیا جائے گا، جس پر معاہدہ طے پا گیا۔