
کراچی میں ماہ مبارک میں بھی اسٹریٹ کرائمز بڑھ گئے، ڈکیتی مزاحمت پر ایک اور شخص کی جان چلی گئی۔ مشتعل شہریوں کے تشدد سے جناح اسپتال منتقل ہونے والے زخمی ملزم کو عوام اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ دیر بعد مردہ حالت میں جناح اسپتال چھوڑ گئے۔ رواں سال کے چونسٹھ دنوں میں اٹھارہ شہری ڈکیتی مزاحمت پر جان سے گئے۔
کراچی کا ایک اور شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارا گیا۔ قائد آباد میں مرغی خانے کے قریب ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا بابر سوئمنگ پول کا مالک تھا۔ واردات موٹرسائیکل سوار2 ملزمان نے کی۔
دو روز میں ایک ہی علاقے میں ڈاکوؤں نے دوسرے شہری موت کی نیند سلا دیا۔ رواں سال ڈکیتی مزاحمت کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 18 ہوگئی۔
مقتول بابرکے جسم پر 2 گولیاں لگیں، مقتول گلستان سوسائٹی کا رہائشی تھا۔
پولیس کے مطابق علاقہ مکینوں نے فائرنگ کرنے والے ڈاکو کے فرار ہونے کی کوشش ناکام بنائی اور تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالا۔
مقتول شہری کے سوگواران میں اہلیہ، 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرکے فرار ڈاکو کی تلاش شروع کردی ہے۔
ادھر لانڈھی میں ڈاکوؤں نے ملک شاپ کو لوٹ لیا۔ تین شہریوں کو بھی موبائل فونز اور نقدی سے محروم کردیا گیا۔
شہری کی جاں بحق ہونے کے واقعے پر علاقہ مکینوں کا احتجاج
دوسری جانب کراچی کے علاقے قائد آباد میں ڈکیتی مزاحمت پر شہری کے جاں بحق ہونے کے واقعے علاقہ مکینوں نے نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا۔
احتجاج کے دوران علاقہ مکینوں نے ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی سے وارداتوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دو دن میں دو شہری ڈکیتی مزاحمت پر جاں بحق ہوئے ہیں۔
احتجاجی مظاہرین سے مذکرات کیلئے پولیس کی نفری پہنچ گئے۔