
برطانیہ اگلے 5 سال میں جنگ میں پھنسنے والا ہے، ماہرین نے دعویٰ کر دیا۔
2024 کے انتخابات میں پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والے ٹنبریج ویلز کے لبرل ڈیموکریٹ ایم پی مائیک مارٹن کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ ”یقینی طور پر 50 فیصد سے زیادہ امکانات ہیں کہ ہم 2030 سے پہلے جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔“
فوجی امور میں دلچسپی رکھنے والے مارٹن نے کہا کہ وہ ایک سابق برطانوی فوجی افسر ہیں میں نے افغانستان کے بھی متعدد دورے کیے، جنگی علوم میں پی ایچ ڈی کی اور میں نے اس موضوع پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہمیں لوگوں کو بھرتی کرنے کی ضرورت ہوگی؟ جی ہاں ہم ایسا کریں گے، ہم اس مرحلے پر نہیں، جہاں آپ لوگوں کو ڈرون سے بدل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈرونز ایک حد تک وہ جاتے ہیں، لیکن آپ کو پھر بھی لوگوں کی ضرورت ہے کہ وہ زمین پر قبضہ کریں، دنیا میں بہت کچھ تبدیل ہونے والا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی جے پی مورگن چیس کے سی ای او جیمی ڈیمن، جو عام طور پر مالیاتی منڈیوں کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ معاشی مسائل “جیو پولیٹیکل صورتحال کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔
ایم پی مائیک مارٹن کا خیال ہے کہ اگر برطانیہ خود کو کسی جنگ میں پاتا ہے تو یہ ”فوری طور پر“ ہوجائے گا، جو کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اگلے انتخابات سے پہلے بھی ہوسکتی ہے۔
ماہرین نے پیشین گوئی کی ہے کہ ہم ”ورلڈ وار 3“ میں کب ہوں گے۔ کرہ ارض کے سب سے بڑے بینک کے باس نے خبردار کیا تھا کہ ”ورلڈ وار 3“ شروع ہو چکی ہے، اس سے انسانیت کو بہت زیادہ خطرات ہیں۔
بااثر بینکر نے یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جنگوں کے ساتھ ساتھ امریکا کے دشمنوں روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے درمیان تعاون کو بھی اپنے سنگین نقطہ نظر کی وجوہات کے طور پر بتایا۔
انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کی سالانہ میٹنگ میں بتایا کہ “وہ واضح طور پر نظام ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں،”ورلڈ وار 3“ کے تناظر میں اتحادیوں کے ذریعہ ورلڈ آرڈر سیٹ اپ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطرہ غیر معمولی ہے، تیسری جنگ عظیم شروع ہو چکی ہے۔ آپ کے پاس پہلے سے ہی زمین پر متعدد ممالک میں لڑائیاں شروع ہوچکی ہیں۔