
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے مزید ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ہفتے کو چار روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم ارمغان کو انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی تھری) میں پیش کیا گیا۔ جہاں پولیس کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
اس موقع پر ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی بھی عدالت پہنچے اور ملزم سے ملنے کی کوشش کی، تاہم، پولیس اہلکاروں نے ملزم سے والد کو ملنے نہیں دیا۔
مصطفی عامر کی قبر کشائی کے بعد ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے گئے
دوران سماعت عدالت نے ملزم ارمغان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو مارا ہے؟ جس پر ملزم ارمغان نے کہا کہ ’مجھے مارا ہے‘، اور یہ کہہ کر ملزم گر گیا اور بظاہر ایک بار پھر بے ہوش ہوگیا۔ عدالتی عملے نے ملزم پر پانی چھڑکا۔
ہوش میں آںے پر ملزم ارمغان نے عدالت کو بتایا کہ مجھے کھانا نہیں دیا گیا، مجھے پولیس بلوچستان لے کر گئی اور کہا کہ گولی مار دیں گے۔
ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ پولیس مجھے مار دے گی۔
جبکہ پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ باپ کے اشارہ کرنے پر ملزم گر کر بہوش ہوا ہے۔
پولیس نے کہا کہ ملزمان کا 164 کا بیان کرانا ہے۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
ملزم کے وکیل خرم عباس نے کہا کہ اتنی چیزیں بتارہے ہیں لیکن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے، شریک ملزم شیراز سے سائن نہیں کرانے دے رہے، جبکہ پولیس والے ملزم کے انٹرویو کروا رہے ہیں۔
’مصطفی سے کہا جان بچا سکتے ہو تو بھاگ جاؤ، مرکزی ملزم ارمغان کا اعتراف
جس پر عدالت نے ریمارکس دئے کہ یہ آپ کے رابطہ کا معاملہ ہے۔
عدالت نے ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔