غیر ازدواجی تعلقات چلانے ہوتے تو شادی نہ کرتی، مدیحہ افتخار


غیر ازدواجی تعلقات چلانے ہوتے تو شادی نہ کرتی، مدیحہ افتخار

پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مدیحہ افتخار نے کہا ہے کہ اگر مجھے غیر ازدواجی تعلقات چلانے ہوتے تو شادی نہ کرتی۔

حال ہی میں اپنے دیے گئے ایک انٹرویو میں معروف اداکارہ مدیحہ افتخار نے بتایا کہ شادی سے قبل جوڑوں کا ایک دوسرے کو بہتر انداز میں جاننا انتہائی ضروری ہے اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔

انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد انہوں نے کچھ وقت کے لیے سوچا تھا کہ شاید انہیں شوہر کا اعتبار اور دل جیتنے کے لیے شوبز چھوڑنا پڑے اور انہوں نے ایسے ہی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوہر کا اعتبار اور دل جیتنے کے لیے شادی کے بعد کچھ عرصے تک شوبز سے کنارہ کشی اختیار کی، تاکہ وہ بھی شوہر کو مکمل طور پر سمجھ سکیں۔

مدیحہ افتخار نے کہا کہ شادی کے محض دو سال کے اندر ہی وہ اور ان کے شوہر ایک دوسرے کو سمجھ چکے تھے، دونوں کا ایک دوسرے پر اندھا اعتبار قائم ہو چکا تھا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو یقین ہے کہ ان کی بیوی کوئی غلط کام نہیں کرے گی اور انہیں بھی خود پر اعتماد ہے کہ وہ کچھ غلط نہیں ہونے دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ شادی شدہ جوڑوں میں اختلافات اور جھگڑے معمول کی بات ہیں اور ان کے درمیان بھی جھگڑے ہوتے رہے ہیں لیکن انہوں نے جھگڑوں کے درمیان کبھی تیسرے شخص کو مداخلت کی اجازت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر نے تمام اختلافات کو خود ہی حل کیا جب کہ شادی کے کچھ عرصے تک وہ ساس اور سسرالیوں کے ساتھ بھی رہیں لیکن انہیں کبھی کسی طرح کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔

مدیحہ افتخار نے کہا کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر کافی دیر بعد 29 سال کی عمر میں شادی کی، اگر انہیں اِدھر، اُدھر کے کام کرنے ہوتے یا پھر غیر ازدواجی تعلقات چلانے ہوتے تو وہ شادی نہ کرتیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص کسی ایک انسان سے شادی کرے تو پھر اسی سے ہی مخلص رہے، پھر اس شخص کو دائیں اور بائیں نہیں دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن اگر شادی کے بعد شوہر اچھا نہ نکلے تو وہ خود کو قابل رحم بنانے کی ضرورت نہیں، اس تعلق اور رشتے سے نکل جانا چاہیے، ایسا نہیں کہ ایک شادی طلاق پر ختم ہونے کے بعد ان کی دنیا ختم ہوجائے گی، پھر وہ دوبارہ شادی کر سکتی ہیں، دوبارہ کسی اور جگہ قسمت آزما سکتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی میں ساتھی کا ہونا انتہائی ضروری ہے، ساتھ کو ختم نہیں کرنا چاہیے لیکن بہت ساری خواتین ایک طلاق کے بعد شرم اور خوف کے مارے دوسری شادی نہیں کرتیں لیکن انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، انہیں کسی اور کی پرواہ بغیر فیصلے کرلینے چاہیے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles