یہ پُرامن احتجاج نہیں، شدت پسندی ہے، انتشاری ٹولہ خونریزی چاہتا ہے، وزیراعظم


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتشاری ٹولے کے ہاتھوں سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں، یہ پُر امن احتجاج نہیں، شدت پسندی ہے اور انتشاری ٹولہ انقلاب نہیں، خونریزی چاہتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے رینجرز اور پولیس اہلکاروں پر گاڑی سے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے سری نگر ہائی وے پر پی ٹی آئی مظاہرین کی جانب سے گاڑی سے کچلے گئے رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف نے حملے میں زخمی ہونے والے رینجرز اور پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور شہید اہلکاروں کی بلندی درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
پی ٹی آئی کو روکنا ہے تو طاقت کے استعمال کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، خواجہ آصف
انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کی فوری نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد پر امن احتجاج کی آڑ میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں پر حملے قابل مذمت ہیں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ انتشاری ٹولہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے، انتشاری ٹولے کے ہاتھوں سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں، یہ پُر امن احتجاج نہیں، شدت پسندی ہے۔

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

شہباز شریف نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کے اہلکار شہر میں امن و امان کے نفاذ کے لیے مامور ہیں، انتشاری ٹولہ گزشتہ روز پولیس اہلکار اور آج شہید کیے گئے رینجرز اہلکاروں کے معصوم بچوں و اہلِ خانہ کو جوابدہ ہے، انتشاری ٹولہ انقلاب نہیں، خونریزی چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی انتشار اور خوں ریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا، مذموم سیاسی مقاصد کے لیے خون ریزی نا قابل قبول اور انتہائی قابل مذمت ہے، مجھ سمیت پوری قوم شہید ہونے والے رینجرز و پولیس کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
یاد رہے کہ سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے رینجرز اہلکاروں پر گاڑی چڑھا دی تھی جس سے 4 رینجرز اہلکار شہید جبکہ 5 رینجرز اور 2 پولیس کے جوان بھی شدید زخمی ہو گئے۔
4 رینجرز اہلکاروں کی شہادت پر وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان سامنے آگیا
سکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اب تک رینجرز کے 4 جوان شہید اور پولیس کے 2 جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد شدید زخمی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بھی بلا لیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا جبکہ انتشار پھیلانے والوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دے دیے گئے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles