
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق، یہ دورہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے حوالے سے پاکستان اور آئی اے ای اے کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ ذرائع کے مطابق، رافیل گروسی اپنے دورے کے دوران پاکستانی سیاست دانوں سے ملاقاتیں کریں گے، مختلف سیمینارز میں شرکت کریں گے اور ایک نیوکلیئر پاور جنریشن سائٹ کا بھی دورہ کریں گے۔
پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان دیرینہ تعاون 1957 میں شروع ہوا تھا۔ پاکستان اس وقت ایجنسی کے تکنیکی تعاون پروگرام کے سب سے بڑے مستفید ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان کا جوہری تعاون توانائی، صحت، آبی وسائل کے انتظام، خوراک اور زراعت جیسے اہم شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔
آئی اے ای اے اقوام متحدہ کا جوہری نگران ادارہ ہے، جو دنیا بھر میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے محفوظ اور پرامن استعمال کی نگرانی کرتا ہے۔ پاکستان 1957 سے ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اس کی ہدایات کے تحت اپنے سول نیوکلیئر پاور پروگرام کو چلا رہا ہے۔