حماس کےترجمان خالد قدومی کا کہنا ہے کہ پاکستان ان چارملکوں میں شامل ہے جنہوں نےاسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کو اپنے ہاں ٹھہرانے پراتفاق کیا ہے۔ یہ فلسطینی قیدی اسرائیل وحماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں رہائی پا رہے ہیں۔
گذشتہ روزعرب نیوزسے گفتگومیں حماس کے ترجمان ڈاکٹرخالدمقدومی نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے جن فلسطینیوں کو رہا کیا ہے ان میں سے کچھ مصر پہنچے ہیں۔ مصرکےعلاوہ ترکیہ، الجزائر، ملائیشیا، پاکستان اورانڈونیشیا نے بھی رہا ہونے والے قیدیوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہرکی تھی۔
حماس ترجمان ڈاکٹرخالد مقدومی کا کہنا تھا کہ اس بات پرہم پاکستانی حکومت، پاکستانی عوام اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان صرف بھائی نہیں بلکہ بڑا بھائی ہے جس کا ہمارے ساتھ روحانی تعلق ہے جو ہمیشہ القدس کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔
حماس کے ترجمان ڈاکٹرخالد قدومی نےعرب نیوزکو بتایا کہ اسرائیل نےاب تک تقریباً 180 فلسطینیوں کو رہا کیا ہے اور ان میں سے کچھ نے وہاں آباد ہونے کے لیے مصرکا سفر کیا ہے، متعدد مسلم ممالک جن میں مصر، ترکی، الجزائر، ملائیشیا، پاکستان اور انڈونیشیا نے نےان قیدیوں کی میزبانی پرآمادگی ظاہرکی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ابھی تک اسرائیل کی طرف سے رہا کیے گئے فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کے بارے میں سرکاری طورتصدیق نہیں کی ہے۔
ادھرحماس کے قریبی سمجھی جانے والی فلسطینی خبررساں ادارے قدس پریس کے مطابق اسرائیل کی طرف سے رہا کیے گئے 99 فلسطینی قیدیوں کومصربھیج دیا گیا ہے، جن میں سے 263 کی رہائی کے عمل کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد رہائی متوقع ہے۔
قدس پریس کے مطابق مصرسے اب تک ملک بدرکیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد 99 ہوگئی ہے اورتوقع ہے کہ پہلی کھیپ کے اختتام کے بعد ان کی تعداد 263 تک پہنچ جائے گی۔
حماس کےرہنما نےقدس پریس کوانکشاف کیا کہ اس وقت کئی ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ بقیہ قیدیوں کی میزبانی کے لیے ان کی منظوری حاصل کی جا سکے، ترکی، قطر، پاکستان اورملائشیا شامل ہیں۔ قیدیوں کی میزبانی کے لیے اس وقت الجزائراورانڈونیشیا سے رابطے کیے جا رہے ہیں جب کہ تیونس نے کسی بھی فلسطینی قیدی کی میزبانی سے انکارکردیا ہے۔
قدس پریس کے مطابق مصری حکام نے قدیویوں کےلیےعارضی رہائش کے طور پرایک ہوٹل کا انتخاب کیا، جس پرحماس کوتحفظات تھے کہ ہوٹل کے زیادہ اخراجات، ایک ملین ڈالر سے زیادہ ہوسکتے ہیں،تاہم قطرنے مداخلت کرتے ہوئے اس رہائش گاہ کے اخراجات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا۔
7 اکتوبر 2023 سے 19 جنوری 2025 تک کےعرصے کے دوران اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی جس میں تقریباً 159,000 فلسطینی جاں بحق اورزخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تربچے اورخواتین تھیں اور14,000 سے زیادہ لاپتہ ہوئے۔