
صارم قتل کیس میں پولیس تفتیش کے دوران بچوں کے معلم کے کمرے سے ملنے والی چیزوں کے حوالے سے بڑا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق نارتھ کراچی میں 7 سالہ صارم قتل کیس کے معاملے میں تفتیشی پولیس نے مدرسے کے مؤذن کے گھر پر چھاپہ مار کر کارروائی کی جس دوران موذن کے گھر سے جنسی استعمال میں ہونے والے ادویات برآمد کرلی۔
ذرائع کے مطابق مؤذن حارث کے موبائل سے نا قابل بیان نازیبا ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں، مؤذن حیدرآباد کے بھی ایک بچے سے رابطے میں تھا اس کو بھی غلط میسجز بھیجتا تھا۔
قاتل کی عدم گرفتاری، صارم کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کا پاور ہائوس پر احتجاج
تفتیشی پولیس نے بتایا کہ معلم مدرسے کے اوپر ہی ایک کمرے میں رہتا تھا، مدرسے کا معلم حارث اس وقت حراست میں ہے۔
پولیس حکام کے مطابق فارنزک لیب کی جانب سے مزید وقت مانگ لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی لیب نے کہا ہے کہ صارم کے جسم سے کئی سیمپلز اٹھائے گئے تھے مگر بدقسمتی کی وجہ سے تاحال کامیابی نہیں مل سکی ہے۔